Corrupt Hukmaran Bechaari Awam

جب تک پاکستان میں کرپشن رہے گی بھٹو زندہ رہے گا۔ جب تک جاہل غریب بھوکا رہے گا بھٹو زندہ رہےگا۔ جب تک PPP کے وڈیرے جاہل غریب کا شکار کرتے رہیں گے بھٹو زندہ رہے گا۔ جس دن عوام میں جہالت ختم ہو جائیگی، عوام خود پر بھروسہ کرنا سیکھ جائیں گے بھٹو مر جائے گا۔ جو مستقبل قریب میں تو نظر نہیں آتی۔ اسلامی سوشلزم کیا ہے، بھٹو نے کبھی نہیں بتایا۔ ہم نے اور NSF کے لڑکوں نے 1970 کے الیکشن میں اسلامی مساوات اور شوشلزم کے تعلق کو اجاگر کیا۔ جمیعت کو لا جواب کیا۔ قریہ قریہ جا کر بھٹو کو کامیاب کیا۔ 1970 کے الیکشن کے بعد جب پتہ چلا کہ بھٹو تو کسی سیاسی نظرئے کو مانتا ہی نہیں ہے صرف اقتدار کی حوس ہے۔ جب الیکشن کے بعد PPP ایک مضبوط اپوزیشن پارٹی بن کر ابھری۔ تب ہم نے بھٹو صاحب سے 70 کلفٹن جا کر درخواست کی کہ PPP اپوزیشن میں بیٹھ جائے آپ عوامی انداز میں بہت اچھی تنقید کرتے ہیں، مجیب اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے گا اور اگلے الیکشن میں PPP مشرقی پاکستان سے بھی جیتے گی۔ بھٹو نے ہماری کوئی ںات نہ سنی اور تم اسٹوڈینٹ بچے ہو سیاست نہیں جآنتے۔ پھر ھم نے اور نظریاتی لوگوں نے PPP چھوڑ دی اور PPP میں موقعہ پرست اور کرپٹ لوگ شامل ہوتے گئے۔ جمہوریت کے قتل سے مشرقی پاکستان الگ ہو گیا۔ اب ہمارے ہی روٹی کپڑا اور مکان کے نعروں سے غریب کو مسلسل لوٹا جاتا ہے غریب کو غریب تر اور جاہل رکھنے کے پورے حربے استعمال کئیے جاتے ہیں اور ہر بار غریب سے لوٹی دولت سے غریب کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور اس کھیل میں ساری سیاسی جماعتیں شامل ہو گئی ہیں۔ اگر PPP اپنے دور میں تین ارب روپے بغیر خزانے کے چھاپتی ہے تو PMLN بھی اس کام کو جاری رکھتی ہے۔ انگریز کی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو ، پر ہر پارٹی عمل کر رہی ہے اور اس معاملے میں PPP، PMLN،MQM،، ANP، اور ملا پارٹیاں سب ایک ہیں۔ شاید میں کچھ زیادہ سچ لکھ گیا بہت سوں کو ہضم نہ ہو پائے گا۔
ایم ایم بشیر ثانی۔

Advertisements

What is Rule of State Bank Pakistan

کیا آپ جانتے ہیں

کہ حکومت پاکستان کو اپنی مرضی سے کرنسی جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں.؟

آپ کی جیب میں پڑا ہر کرنسی نوٹ ایک قرض ہے جو آپ کی حکومت نے سٹیٹ بنک سے اس وعدے پر لیا ہے کہ وہ اس نوٹ کو سود سمیت واپس کرے گی.

چونکہ کرنسی جاری کرنے کا اختیار ہی صرف سٹیٹ بنک کے پاس ہے اس لیئے کرنسی نوٹ کی واپسی پر سٹیٹ بنک کے حصے کے سود کا پیسا بھی سٹیٹ بنک ہی چھاپتا ہے اور اس پر دوبارہ سود لیا جاتا ہے. وہ سود واپس کرنے کے لیئے دوبارہ نوٹ چھاپے جاتے ہیں اور دوبارہ ان پر سود لیا جاتا ہے. یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا.

اسی وجہ سے ملک کا اندرونی قرضہ کبھی بھی کم یا ختم نہیں ہوا اور مہنگائی مسلسل بڑھتی رہتی ہے.

سٹیٹ بنک آف پاکستان حکومتِ پاکستان کے ماتحت نہیں بلکہ ایک آزاد ادارہ ہے.

ہر کرنسی نوٹ اس بات کی رسید ہوتا ہے کہ سٹیٹ بنک کے پاس اس نوٹ کے متبادل سونا موجود ہے. جبکہ اصل میں کرنسی نوٹ کے مقابلے میں سٹیٹ بنک کے پاس موجود سونے کی شرح بیس فیصد سے بھی کم ہے.

آپ کی جیب میں موجود کرنسی نوٹ پر لکھی تحریر “حامل ہزا کو مطالبے پر ادا کرے گا” کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی حکومت آپ کے مطالبے پر اس نوٹ کے برابر سونا ادا کرنے کی پابند ہے.

اگر آج ہی پاکستان کی کل آبادی سٹیٹ بنک کو نوٹ واپس کر کے سونا لینا شروع کر دے تو صرف بیس فیصد نوٹ قابلِ استعمال ہونگے. باقی اسی فیصد نوٹوں کی قیمت تیرہ روپے فی کلو ہے. کیوں کہ باقی نوٹوں کا سونا موجود ہی نہیں اس لیئے ان کی قیمت وہی ہے جو ردی کوڑے کی ہوتی ہے.

دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے لوگ لکڑی کی جگہ کرنسی نوٹ جلاتے تھے. کیوں کہ لکڑی کی قیمت کرنسی سے زیادہ ہو گئی تھی.

مہنگائی بڑھنے کی شرح جسے انفلیشن یا افراط زر کہتے ہیں کا کانسیپٹ صرف سو سال پرانا ہے.

ایک مرغی کی قیمت فرعون کے دور میں دو درہم تھی جو کی انیسویں صدی کہ آخر تک دو درہم ہی رہی. اگر ہم غور کریں تو آج بھی اس کی قیمت دو درہم ہی بنتی ہے. مطلب صفر فیصد انفلیشن.

پچھلے صرف 100 سالوں کے دوران کاغزی کرنسی کی قیمت کئی سو گنا گر چکی ہے.

انفلیشن دراصل ایک ٹیکس ہے جو امیر اور غریب بغیر کسی تفریق کے برابر ادا کرتے ہیں.

آج غربت اور افلاس کی سب سے بڑی وجہ ہی پیپر کرنسی اور اس پر دیا جانے والا سود ہے.

جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں تو اصل میں ڈالرز ہمارے پاس منتقل نہیں ہوتے. بلکہ امریکہ میں ہی کسی بینک میں موجود ایک اکاؤنٹ میں صرف کمپیوٹر کے زریعے ٹرانزیکشن ہوتی ہے. اس اکاؤنٹ میں بھی ڈالرز منتقل نہیں ہوتے.

آج تک دنیا میں موجود ڈالرز کا صرف تین فیصد چھاپا گیا ہے. باقی ستانوے فیصد ڈالرز صرف کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسکس میں محفوظ ہیں.

آئی ایم ایف کے چارٹر میں یہ بات تحریر ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے سکے جاری نہیں کر سکتا. اگر کرے گا تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ایسے ملک کو قرضہ نہیں دیں گے.

امریکہ سمیت دنیا میں کئی سربراہ مملکت اس بات پر قتل ہو چکے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی کرنسی یا سونے اور چاندی کے سکے جاری کرنے کی کوشش کی.

اس ملک کی حکومت وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری فائیننس آئی ایم ایف کی اجازت کے بغیر نہیں لگا سکتی.

آئی ایم ایف قرضہ دیتے ہوئے سب سے پہلی شرط پرائیویٹائیزیشن کی رکھتا ہے اور اس کے بعد قرض دیا جاتا ہے. کبھی غور کیجئیے گا کہ ایسا کیوں ہے.

سعودی عرب اور ایران سمیت تمام پٹرول برآمد کرنے والے ملک اس بات کے پابند ہیں کہ پٹرول صرف ڈالرز کے بدلے بیچا جائے گا نہ کہ بیچنے یا خریدنے والے ملک کی کرنسی میں.

انسانی تاریخ میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکا. یہ انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ …

To understand life better, why you have to go to 3 locations?

Beautiful Message
خوبصورت پیغام

A rich man looked
through his window and
saw a poor man picking
something from his
dustbin … He said, Thank
ALLAH (swt) I’m not poor;

ایک امیر آدمی نے اپنی کھڑکی سے ایک غریب آدمی کو کوڑادان سے کچھ چیز یں
اٹھاتے دیکھ کر رب تعالی کا شکر ادا کیا کہ
میں غریب نہیں

The poor man looked
around and saw a naked
man misbehaving on the
street … He said, Thank
ALLAH(swt) I’m not mad;

غریب آدمی نے ایک الف ننگے آدمی کو
الٹی سیدھی حر کتیں کرتے دیکھ کر رب
تعالی کا شکر ادا کیا کہ میں پاگل نہیں

The mad man looked
ahead and saw an
ambulance carrying a
patient … He said, Thank
ALLAH(swt) am not sick;

ایک آدمی نے اپنے سامنے ایک ایمبولینس
میں ایک مریض کو دیکھ کر رب تعالی کا
شکر ادا کیا کہ میں مریض نہیں

Then a sick person in
hospital saw a trolley
taking a dead body to the
mortuary … He said,
Thank ALLAH(swt) I’m not dead;

پھر ایک مریض شخص نے اسپتال میں
ایک مردہ شخص کو ٹرالی پر لے جاتے دیکھ
کر رب تعالی کا شکر ادا کیا کہ میں زندہ ہوں

Only a dead person
cannot thank ALLAH(swt);

فقط ایک مردہ شخص کسی صورت
رب تعالی کا شکر ادا نہیں کر سکتا

Why don’t you thank
ALLAH(swt)
today for all your
blessings and for the gift
of life … for another
beautiful day;

تم آج رب تعالی کا اس کی نعمتوں
پر شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟ کہ اس عظیم ہستی نے تمھیں تحفہ میں ایک اور
خوبصورت دن دے دیا

What is LIFE?
To understand life better,
you have to go to 3
locations:

زندگی کیا ہے ؟
زندگی کو سمجھنے کے لئے تمہیں
تین (3) مقامات پر جانا ہوگا

  1. Hospital

  2. Prison

  3. Cemetery

1.اسپتال
2.جیل
3.قبرستان

At the Hospital, you will
understand that nothing
is more beautiful than
HEALTH.

اسپتال میں تم “صحت” کو سب سے
زیادہ خوبصورت جانو گے

In the Prison, you’ll see
that FREEDOM is the
most precious thing

جیل میں جا کر انسان آزادی کو
سب سے زیادہ بہتر جانے گا

At the Cemetery, you will
realize that life is worth
nothing. The ground that
we are walking on today will be our
roof tomorrow.

اور قبرستان جا کر انسان سمجھے گا
کہ آج جس مٹی پر چل پھر رہا ہے کل یہی
مٹی اس کی چھت ہو گی

Sad Truth: We all come
with Nothing and we
will go with Nothing…
Let us, therefore, remain
humble and be thankful &
grateful to ALLAH(swt) at all
times for everything.

اصل حقیقت اور سچ
ہم سب جب اس دنیا میں آئے تھے تو خالی ہاتھ تھے اور جب اس دنیا کو چھوڑ کر
جائیں گے تو خالی ہاتھ ہونگے
اس لئے ہمیں ہر وقت اور ہر حال میں
اللہ سبحان وتعالی کا شکر گزار اور
ممنون ہونا چاہئے

Could you please share
this with someone else,
and let them know that
ALLAH(swt) loves them ?

کیا آپ اپنے احباب کو یہ پیغام دینا
پسند کریں گے کہ اللہ سبحان وتعالی
ان سے محبت کرتا ہے؟


96% of people won’t
share it, but if you are 1
of 4% share this truth to
your friends.


96%(چھیانوے فی صد) اس پیغام کو آگے
نہیں بھیجیں گے آپ ان بقایا %4
میں (چار فی صد) سے ایک ہیں
جو اس پیغام کو انشاءاللہ اپنے احباب کو بھیجیں گے

Why Mufti Muneeb ur Rehman Silent On Saniha e Model Town Issue?

کاش:-
مفتی منیب الرحمن صاحب
محترم سید حسین الدین شاہ صاحب
اس طرح کی ایک پریس کانفرنس سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے بھی کرتے…..
کیونکہ
سنا ہے ان کے لیڈر نے بھی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے جنگ لڑی تھی…..
سنا ہے ان پر بھی حکومت کے گماشتوں نے بیدردی سے گولیاں برسائی تھیں…..
سنا ہے وہ بھی کلمہ گو مسلمان تھے….
سنا ہے وہ بھی درودی تھے……
سنا ہے وہ بھی یارسول اللہ ﷺ کا نعرہ لگاتے تھے…..
سنا ہے تب بھی علمائے کرام کو ہتھکڑیاں پہنا کر گرفتار کیا گیا تھا….
سنا ہے تب بھی سفید داڑھیوں کو انہیں کے خون سے رنگین کیا گیا تھا…….
سنا ہے تب بھی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہوا تھا……
سنا ہے تب تو اَغثنی یارسول اللہ ﷺ پکارتی قوم کی باپردہ بیٹیوں کے منہ اور پیٹوں میں گولیاں بھی اتاری گئی تھیں اور ان سمیت پیٹ میں موجود ننھی جانوں کا خون بھی کیا گیا تھا.
تب غیرتِ مسلک ودین اور محراب و منبر کہاں تھی…..
لیکن کیا کریں مفتی صاحب کی شاید یہ مجبوری ہوکہ
تب جانوں کا نزرانہ پیش کرنے والے شہداء و لواحقین متحدہ تنظیمات المدارس کا حصہ نہ تھے اور اس وجہ سے ان کا اہلسنت اور مسلمان ہونا مشکوک تھا…….
یا پھر اور کئی مجبوریاں………
اپنی اپنی دکان چمکائیں گے تو یہی حشر ہوگا بلکہ اس سے بھی بدتر……….

One Think for Changing System

ایک سوچ

میں بس اسٹاپ پہ کھڑا اس شخص کو جو دیکھنے میں کافی ہینڈسم اور پڑھا لکھا نظر آرہا تھا کافی دیر سے گھوررہا تھا کیونکہ وہ شخص اتنی ہی دیر سے بس اسٹاپ کھڑی اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ ایک اکیلی خاتون کو مسلسل گھورے جارہا تھا جو کچھ ہی فاصلہ پر کھڑیں تھیں، تھوڑی ہی دیر میں ای بس کو خاتون نے رکنے کا اشارہ کیا، بس اسٹاپ پر آکر رکی اور خاتون بس میں سوار ہوگئی، خاتون تو چلی گئی لیکن میں اس شخص کو گھورنا نہیں چھوڑا کیونکہ میری نیت اس اس بات کا احساس دلانا تھا کہ کسی کو کسی کا گھورنا کس قدربرا لگ سکتا ہے اور ہوا بھی یہی ٹھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص میری طرف آیا اور آتے ہی میرا گیریبان پکڑلیا، میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے کہا ارے بھائی کیا ہوا؟ چھوڑیں میرا گریبان، بلاوجہ میں گلے پڑرہے ہیں۔ اس نے کہا ابے تو مجھے اتنی دیر سے کیوں گھوررہا ہے؟ میں نے کہا، کیا ہوا بھائی آپکو دیکھنا گناہ ہے کیا؟ جب آپ بس اسٹاپ پہ کھڑی اس خاتون کو گھورہے تھے تو میں آپ کو گھورنے لگا اس میں کیا مضائقہ؟ جب آپ کو کسی پرائی عورت کو دیکھا اور گھورنا برا نہیں لگتا تو میرا آپ کو گھورنا برا کیوں لگا؟شرمندگی کے احساس کے ساتھ سر کو جھکاتے ہوئے اس شخص نے میرا گریبان چھوڑدیا اور کہنے لگا معذرت برادار میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں مجھے کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا کہ جب مجھے کسی کا گھورنا اتنا برا لگ سکتا ہے تو ایک اکیلی اور بے بس خاتون کو کتنا برا لگ سکتا ہوگا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے احساس دلایا۔

Akhirat Me Hisaab o Kitab Kese Hoga?

ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا:

استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے
اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے
انہوں نے پہلے لڑکے کو سو روپے،
دوسرے کو پچھتر،
تیسرے کو ساٹھ،
چوتھے کو پچاس،
پانچویں کو پچیس،
چھٹے کو دس،
ساتویں کو پانچ،
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک روپیہ دیا۔

شاگرد بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟

استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہوگی۔

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا۔

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو روپے ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو روپے کیسے خرچ کیئے تھے۔

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ روپے کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا۔

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے،
حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک روپیہ ملا تھا۔

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک روپے کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے۔

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا۔

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے۔ آمین
اپنی نیوز فیڈ میں پوسٹ کر دیں شاید کِسی ایک کو سمجھ آجائے۔شکریہ
جزاک اللہ۔۔

Letter of Kulsoom Nawaz

:عالم ارواع سے بیگم کلثوم کا میاں نواز شریف کے نام پہلا خط

باؤ جی،
میں ِخیریت سے پہنچ آئی ہوں ۔اور آپ کی جدائی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔روانگی پر پٹواریوں کا خلوص بہت یاد آتا ہے کہ کس طرح انہوں نے میری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے ، اور میں خود اپنی ان تعریفوں سے ناواقف رہی ۔میں آپ کی جان بخشی کے لیئے مشرف کے ِخلاف نکلی تھی، اور مجھے مادر جمہوریت بنا دیا ۔ بہرحال مجھے آچھا لگا۔ یہاں آتے ساتھ ہی فرشتوں نے منی ٹریل مانگنی شروع کر دی۔ میں نے کہا کہ منی ٹریل بابو جی کے پاس ہے اور وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں ۔ بڑی مشکل سے مہلت ملی ہے۔ یہاں آپ کے وکلاء کی کمی بہت محسوس ہوئی ہے کہ کس طرح سیدھے سادے کرپشن کے کیس کو الجھا دیا تھا۔ شاید یہاں بھی میری مدد ہو جاتی ۔ یہاں کاُفی لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں آپ کے والد میاں شریف، جرنل ضیاء الحق ، بےنظیر بھٹو، ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور وہ تمام لوگ بھی مل رہے ہیں، جنہیں آپ نے پوری زندگی گمراہ کیا ۔ فرشتے کہہ رہے تھے کہ نوازشریف نے پاکستانی قوم کو شیطان سے زیادہ گمراہ کیا ہے ۔ بہرحال ، تمام متاثرین آپ پر لعنت بھیج رہے ہیں ۔ خصوصی طور پر جرنل ضیاء الحق کا پیغام تھا کہ بابو جی کو کہنا کہ لعنتی کردار ، تم نے مجھے ِاور میرے ادارے کو خلائی مخلوق کہنا شروع کر دیا ہے۔ سسر صاحب بھی سخت خفا ہیں البتہ اپنے پوتوں پر بہت خوش ہیں کہ کس طرح انہوں نے آپ کی عزت کا جنازہ نکالا ۔مجھے افسوس ہے کہ میری اولاد نے میرا قبرستان تک بھی ساتھ نہی دیا ۔ پوری زندگی میں نے اور آپ نے حرام کمائی سے ان نمک حراموں کی پرورش کی، مگر آپنی جان بچانے کے لیے بے وفائی کر گئے ۔ کل بےنظیر سے مختصر ملاقات ہوئی تھی، آصف کی جدائی میں بہت رو رہی تھی ، وہ بھی کہہ رہی تھی، ڈاکو اتنے پیسوں کا کیا کرے گا؟؟ یہاں پاکستانی کرنسی کوئی قبول نہیں کرتا ۔ ایک تو ماڈل ٹاؤن کے شہداء میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ جہاں جاتی ہوں ، پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ بڑی مشکل سے شہباز پر الزام لگا کر جان بچاتی ہوں ۔ بہرحال ، مجھے شہباز پر بہت دکھ ہے کہ اس نے آپ کو گھیر کر اڈیالہ کی جیل میں پہنچا دیا ۔ لندن سے جب آپ اور مریم روانہ ہو رہے تھے ، تو میں نے آپ کو بہت روکنے کی کوشش کی، جب آپ بابو جی، بابوجی، آنکھیں کھولو۔۔، پکار رہے تھے۔ میں نے تو آنکھیں نہیں کھولیں مگر پاکستانی قوم نے آنکھیں کھول کر آپ کو الیکشن سے باہر کردیا ۔ میں نے بہت بار آپ کو سمجھایا تھا کہ آپ لیڈر نہیں ہیں۔ جرنل ضیاء الحق کی مہربانی سے آپ یہاں تک پہنچ گئے ، ورنہ آپ تو چپڑاسی بھی نہیں لگ سکتے تھے۔ آپ نے میری باتوں پر عمل نہیں کیا اور شہباز شریف کے دھوکے میں آ گئے کہ پاکستانی عوام آپ کو نیلسن منڈیلا بنا دے گی ۔ ائرپورٹ پر جو استقبال اس نے آپکا کیا تھا، وہ یاد ہی ہوگا،۔برحال اس نے برادران یوسف والا کردار ادا کیا ہے۔ مریم پر میں سخت خفا ہوں، اس بیغیرت نے جوانی میں صفدر کے ساتھ ہماری عزت کا جنازہ نکالا ، اور ہمارے بڑھاپے میں ہماری سیاست کا۔۔۔۔جنازے والی آپکی تصویریں دیکھتے ہوئے ایک آس سی بندھ گئی ہے کہ ہماری ان شاءاللہ جلدی ملاقات ہو گی ۔ دو مہینے کی جیل نے آپ کی تو شکل بیمار کتے جیسی کر دی ہے۔ بہرحال ، جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔ اب بھی وقت ہے آپ قوم سے معافی مانگ لیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس کر دیں، کیونکہ اولاد اس حرام کمائی کی وجہ سے آپ کا جنازہ بھی نہیں پڑھے گی۔پٹواریوں پر میں بہت خوش ہوں کہ وہ آپ کے جھوٹوں پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات کا خیال رکھنا بابوجی، نادان دوست سے عقلمند دشمن اچھا ہوتا ہے۔ کہیں پٹواری آپ کو منڈیلا بنانے کے چکروں میں مروا ہی نہ دیں۔ اپنا اخروٹی دماغ استعمال کر کے این آر او لے لیں۔ جس طرح مشرف سے ڈیل کی تھی ۔ میں ہاتھ جوڑ کے کہتی ہوں، عزت بچانے کے لیے حرام کمائی واپس کر دیں ۔مگر کیا کیا جائے آپ نے تو عزت بیچ کر ہی حرام مال اکٹھا کیا تھا۔ بابو جی، اب اجازت چاہوں گی۔ منی ٹریل والے فرشتے دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں ۔ مجھے پوری امید ہے آگر اپ اپنی ھٹ دھرمی پر قائم ریے تو پھر ھماری جلدی ملاقات ہو گی ، بابو جی ۔۔۔ فقط پٹواریوں کی… اماں کلثوم*