What we do wrong?

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻭ ﻧﻮ ﻋﻤﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﮑﺎﺭﯼ ﺑﭽﮧ ﺁﭨﮫ ﺳﻮ روپے ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺑﭽﮧ چار ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﻤﺎ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ۔ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺑﺤﯿﺜﯿﺖ ﻗﻮﻡ ﮨﻢ ﺑﮭﯿﮏ ﮐﯽ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﻓﺰﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺷﮑﻨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻮﭨﻞ ﮐﮯ ﻭﯾﭩﺮ ، ﺳﺒﺰﯼ ﻓﺮﻭﺵ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﻄﺢ ﮐﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﮑﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺱ ﺑﯿﺲ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻨﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﮨﻮﻧﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﮟ۔ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﮑﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﯾﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﻮﺵ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎﮞ ، ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﺎﻥ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺨﺘﺺ ﺳﮑﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺭﻗﻢ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﻮﭦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮟ ﺟﻮ ﺑﮭﮑﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ، ﻣﺮﯾﺾ ، ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮯ ﮐﮯ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﯿﮟ ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﮯ ﺑﮭﯿﮏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺪﺍﮔﺮﯼ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮨﮯ ، ﺧﯿﺮﺍﺕ ﺩﯾﮟ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ، ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﺑﮭﯽ.

Advertisements

Kia Barkat Name ki Koi Cheez Hoti hai?

ايک شخص ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ سے بحث کررہا تھاکہ برکت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔
ابراہیم بن ادہم نے کہا کہ تم نے کتے اور بکریاں دیکھیں ہیں وہ شخص بولا ہاں ۔ابراہیم بن ادہم بولے سب سے زیادہ بچے کون جنتاہے کتے یابکری وہ بولا کہ کتے ۔ابراہیم بن ادہم بولے تم کو* بکریاں زیادہ نظر آتیں ہیں یاکتے وہ بولا بکریاں ۔ابراہیم بن ادہم بولے جبکہ بکریاں ذبح ہوتیں ہیں مگر پھر بھی کم نہیں ہوتیں توکیا برکت نہیں ہے اسی کانام برکت ہے ۔پھر وہ شخص بولا کہ ایسا کیوں ہے کہ بکریوں میں برکت ہے اور کتے میں نہیں ۔ابراہیم بن ادہم بولے کہ بکریاں رات ہوتے ہی فورا سوجاتیں ہیں اور فجر سے پہلے اٹھ جاتیں ہیں اور یہ نزول رحمت کا وقت ہوتا ہے لہذا ان میں برکت حاصل ہوتی ہےاور کتے رات بھر بھونکتے ہیں اور فجر کے قریب سو:جاتے ہیں لہذا رحمت وبرکت سے محروم ہوتے ہیں۔پس غوروفکر کامقام ہےآج ہمارا بھی یہی حال ہے ہم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ہیں اور وقت نزول رحمت ہم سوجاتے ہیں اسی وجہ سے آج نہ ہی ہمارے مال میں اور نہ ہی ہماری اولاد میں اورنہ ہی کسی اور چیز میں برکت حاصل ہوتی ہے۔

Secret of Successful Life

ایک حکیم سے پوچھا گیا:
زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟
حکیم نے کہا اس کا جواب لینے کےلیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا۔
سب دوست رات کو جمع ہوگئے۔
اس نے سوپ کا ایک بڑا برتن سب کے سامنے لا کررکھ دیا۔
مگر سوپ پینے کے لیے سب کو ایک ایک میٹر لمبا چمچ دے دیا۔ اور سب کو کہا کہ آپ سب اپنے اپنے لمبے چمچ سے سوپ پینا ہے۔
ہر شخص نے کوشش کی،
مگر ظاہر ہے ایسا ناممکن تھا۔
کوئی بھی شخص چمچ سے سوپ نہیں پی سکا۔ سب بھوکے ہی رہے۔
سب ناکام ہوگئے تو حکیم نے کہا:
میری طرف دیکھو۔
اس نے ایک چمچ پکڑ ا،
سوپ لیا اور چمچ اپنے سامنے والے شخص کے منہ سے لگا دیا۔
اب ہر شخص نے اپنا اپنا چمچ پکڑا اور دوسرے کو سوپ پلانے لگا۔
سب کے سب بہت خوش ہوئے۔
سوپ پینے کے بعد حکیم کھڑا ہوا اور بولا:
جو شخص زندگی کے دسترخوان پر اپنا ہی پیٹ بھرنے کا فیصلہ کرتا ہے،
وہ بھوکا ہی رہے گا۔
اور جو شخص دوسروں کو کھلانے کی فکر کرے گا، وہ خود کبھی بھوکا نہیں رہے گا۔
دینے والا ہمیشہ فائدہ میں رہتا ہے،
لینے والے سے۔
آپ زندگی میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے، جب تک آپ کے دوست احباب کامیاب نہیں ہوتے۔
ہم سب کی کامیابی کا راستہ دوسروں کی کامیابی سے ہوکر گزرتا ھے.

Last Azan of Hazrat Bilal R.A

A Story of Sultan Mahmood Ghaznavi

خاندان اور خون کی پہچان

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا .
سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید لگیں گے.
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا…. ؟
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا …. میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا…..

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ بھی تشریف فرما تھے، کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا …..

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا کہ اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……….

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز سے پوچھا تم کیا کہتے ہو؟ ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانیں، تو اسے معاف کر دیں ……..اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے …..ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا …. ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ……

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا جی کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے…
بابا جی کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا……..

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا …..سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو……
ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی ایک راز کھول دیتا ہوں۔ اے بادشاہ سلامت یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.

When bath isn’t Allowed in Europe

Image may contain: one or more people, ocean, outdoor and water

یورپ میں نہانا کفر سمجھا جاتا تھا،یورپ کے لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی! روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے نمائندے نے کہا کہ ” فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے”، اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام” مونٹیاسبام” تھا جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔ دوسرطرف خود روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے، مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ ” روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی شاہی محل کی دیوار پر پیشاب کرتا ہے ، چھو ٹے اور بڑے پیشاب دونوں کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا، ایسی گندی مخلوق میں نہیں دیکھی”۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی ملکہ” ایزا بیلا” ساری بیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی،اس نے مسلمانوں کے بنائے ہوئے تمام حماموں کو گرادیا۔اسپین کے بادشاہ “فلیپ دوم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی، اس کی بیٹی ایزا بیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی اور محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے،اسی سبب سے وہ مرگئی۔ یہ ان کی عوام کے نہیں بادشاہوں اور حکمرانوں کے واقعات ہیں جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں،جب ہمارے سیاح کتابیں لکھ رہے تھے،جب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کر رہے تھے ان کے بادشاہ نہانے کو گناہ قرار دے کر لوگوں کو قتل کرتے تھے،پھر ہمیں ان کے بادشاہوں جیسے حکمران ملے توحال دیکھیں!!جب لندن اور پیرس کی آبادیاں 30 اور 40 ہزار تھیں اس وقت اسلامی شہروں کی آبادیاں ایک ایک ملین ہوا کرتی تھیں،فرنچ پرفیوم بہت مشہور ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پرفیوم لگائے بغیر پیرس میں گھومنا ممکن نہیں تھا۔ریڈ ایڈین یورپیوں سے لڑتے ہوئے گلاب کے پھول اپنی نتھںوں میں ٹھونس دیتے تھے کیوں یورپیوں کی تلوار سے زیادہ ان کی بدبو تیز ہوتی تھی!! فرانسیسی مورخ” دریبار” کہتا ہے کہ :” ہم یورپ والے مسلمانوں کے مقروض ہیں، انہوں نے ہی ہمیں صفائی اور جینے کا ڈھنگ سکھا یا،انہوں نے ہی ہمیں نہانا اور لباس تبدیل کرنا سکھا یا، جب ہم ننگے دھڑنگے ہوتے تھے اس وقت وہ اپنے کپڑوں کو زمرد،یاقوت اور مرجان سے سجاتے تھے،جب یورپی کلیسا نہانے کو کفر قرار دے رہا تھا اس وقت صرف قرطبہ شہر میں 300 عوامی حمام تھے”

پ میں نہانا کفر سمجھا جاتا تھا،یورپ کے لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی! روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے نمائندے نے کہا کہ ” فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے”، اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام” مونٹیاسبام” تھا جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔ دوسرطرف خود روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے، مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ ” روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی شاہی محل کی دیوار پر پیشاب کرتا ہے ، چھو ٹے اور بڑے پیشاب دونوں کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا، ایسی گندی مخلوق میں نہیں دیکھی”۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی ملکہ” ایزا بیلا” ساری بیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی،اس نے مسلمانوں کے بنائے ہوئے تمام حماموں کو گرادیا۔اسپین کے بادشاہ “فلیپ دوم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی، اس کی بیٹی ایزا بیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی اور محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے،اسی سبب سے وہ مرگئی۔ یہ ان کی عوام کے نہیں بادشاہوں اور حکمرانوں کے واقعات ہیں جو تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں،جب ہمارے سیاح کتابیں لکھ رہے تھے،جب ہمارے سائنسدان نظام شمسی پر تحقیق کر رہے تھے ان کے بادشاہ نہانے کو گناہ قرار دے کر لوگوں کو قتل کرتے تھے،پھر ہمیں ان کے بادشاہوں جیسے حکمران ملے توحال دیکھیں!!جب لندن اور پیرس کی آبادیاں 30 اور 40 ہزار تھیں اس وقت اسلامی شہروں کی آبادیاں ایک ایک ملین ہوا کرتی تھیں،فرنچ پرفیوم بہت مشہور ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ پرفیوم لگائے بغیر پیرس میں گھومنا ممکن نہیں تھا۔ریڈ ایڈین یورپیوں سے لڑتے ہوئے گلاب کے پھول اپنی نتھںوں میں ٹھونس دیتے تھے کیوں یورپیوں کی تلوار سے زیادہ ان کی بدبو تیز ہوتی تھی!! فرانسیسی مورخ” دریبار” کہتا ہے کہ :” ہم یورپ والے مسلمانوں کے مقروض ہیں، انہوں نے ہی ہمیں صفائی اور جینے کا ڈھنگ سکھا یا،انہوں نے ہی ہمیں نہانا اور لباس تبدیل کرنا سکھا یا، جب ہم ننگے دھڑنگے ہوتے تھے اس وقت وہ اپنے کپڑوں کو زمرد،یاقوت اور مرجان سے سجاتے تھے،جب یورپی کلیسا نہانے کو کفر قرار دے رہا تھا اس وقت صرف قرطبہ شہر میں 300 عوامی حمام تھے”

Soi Hoi Qoum ko Jagane ki Khoshish

 

Aye Mere Mulk-e-Pakistan ke Logon, kiya hogya hy kiu ab tak jag nhi rhy ho?
kiu murda Qoum ki trah jee rhy ho?
utho jago or zulum ko mita do,
zalimo ko nist o nabood kardo,
kab utho gy?
kab jago gy?
jab tmhare sath kuch galt hoga tab jago gy kya?
jab tmhare bete baap ko qatal krdya jayega or F.I.R bhi nhi kate gi tab jago gy kya?
jab tmhari maa behno ke sath zyadtti hogi or zalim azad ghomengy tab jago gy kiya?
Lkn main bta don..!
Aey pakistani qoum tab jagne ka koi faida nhi hoga,
us waqt tm akeele hogy or tmhari koi nhi sune ga,
dar badar ki thokre khate raho gy kuch hasil nhi hoga,
aj wqt hy,
Aj Haq ki awaz buland karne wala tmhare sath hy,
aj mazlomo ko haq dilane k liye apni jaan tak dyny wala tmhare sath mojood hy,
aj jago us haq ki awaz buland karne walay ka sath do,
aj jago or in zalimo ko inke kiye howe zulum ki saza dilwao or Pakistan ko or apne bacho or aane wali naslon ka mustaqbil sanwar do,
Sirf aj tmhy qurbani dyny hogi,
Kal tmhare bachche sakoon ki zindgi guzarengy,
jahan insaaf hoga,
Jahan qanoon ke mutabiq gunhegaron ko saza di jayegi,
Jahan mazloom awam ke sath zulum nhi hoga,
khush haali hogi,
aman hoga,
jan o maal ki hifazat hogi,
jahan gareeb ki suni jayegi,
jahan kisaan ka beta bhi parh kar iqtidaar par aa sake ga,
jahan badshaht nhi jamhoriyat hogi,
jahan ek hi khandaan ke 22 logo ki hukumat nhi hogi,
jahan ek hi khandaan pore soba e balochistan ki hukmarani nhi kar sakyga,
aj utho un mazloom bhai behno k liye jin pe zalim zulum kar rhy hyn,
jin ka khoon beh rha hy or khoon bahane wale zalim azaad ghom rhy hyn,
woh b hamare bhai behn hyn,
woh b hamare maa baap hyn,
Pakistani hyn isliye b woh hamare maa, baap, behn bhai hyn,
musalman hone ke naate bhi woh hamare behn bhai hyn,
insaaniyat ke naate b woh hamare bhai behn hyn,
kiya hum apne bhaio behno ko istrah marte howe dekh skte hyn?
un par istrah na-jaiez zulum hote howe dekh skty hyn?
kya hum istarh apne chote chote bacho ki laashen dekh kr chup reh sakty hyn?
nhi reh skty na to ye bhi hamare bache hy to Aaj unka sath do Akhirat me Allah Tala tmhara Sath dyga,
InshAllah.
Mazlom Pakistanio INQILAB Aur Tabdeli MARCH k Shurka Aapke Haqoq K Ly 26-Din Sy Islamabad mn Bethy Hn,
Ab Aapka Bi Farz Ha, k Yhan Puhnchen.
“utho mere Pakistan ke logon ko jaga do….
raiwand ke dar-o-dewaar hila do….
aya howa hy zalimon ka zamana….
jo tmhy koi galt nazar aye to usko mita do….”